امین فرش پہ پیغام لے کے آیا ہے

 

امین فرش پہ پیغام لے کے آیا ہے

خدا نے عرش پہ محبوب کو بلایا ہے

 

ہمیں ہے فخر کہ ہم اُس نبیؐ کی اُمت ہیں

خدا نے عرش پہ جلوہ جسے دکھایا ہے

 

نبی کھڑے ہیں قطاروں میں کل زمانوں کے

نماز کے لیے اُن کا امام آیا ہے

 

مرے خدا ذرا اُن پر کرم کی بارش کر

نبیؐ سے عشق کا جن کو خیال آیا ہے

 

مرا نبیؐ کہ نہ سایہ تھا جس کے پیکر کا

میں خوش نصیب ہوں گلؔ مجھ پہ اُن کا سایا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات