انا پرست تو ہم ہیں ، غرور کس کا ہے

انا پرست تو ہم ہیں ، غرور کس کا ہے

مبارزت کے عمل میں قصور کس کا ہے

 

تمھاری آنکھ میں تو آفتاب کِھلتے ہیں

مگر ہمارے چراغوں میں نور کس کا ہے

 

یہ کون مجھ میں مجھے ڈھونڈتا ہے ہر لمحہ

مرے وجود پہ قائم شعور کس کا ہے

 

مجھے بتاؤ کہ چارہ گری کروں کس کی

مری تھکن سے بدن چُور چُور کس کا ہے

 

کسی کو بھی نہیں معلوم راز ہستی کا

کتابِ زیست پہ اشعرؔ عبور کس کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو بادل گرج رہے ہیں جناب
اجرتِ آبلہ پائی بھی نہ دے گا سورج
مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا
سب توڑ دیں حدود ، مرا دل نہیں لگا
کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا
کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ
سوچ سفر
جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

اشتہارات