انا پرست تو ہم ہیں ، غرور کس کا ہے

انا پرست تو ہم ہیں ، غرور کس کا ہے

مبارزت کے عمل میں قصور کس کا ہے

 

تمھاری آنکھ میں تو آفتاب کِھلتے ہیں

مگر ہمارے چراغوں میں نور کس کا ہے

 

یہ کون مجھ میں مجھے ڈھونڈتا ہے ہر لمحہ

مرے وجود پہ قائم شعور کس کا ہے

 

مجھے بتاؤ کہ چارہ گری کروں کس کی

مری تھکن سے بدن چُور چُور کس کا ہے

 

کسی کو بھی نہیں معلوم راز ہستی کا

کتابِ زیست پہ اشعرؔ عبور کس کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ