اردوئے معلیٰ

انبیا کو بھی اجل آنی ہے

مگر ایسی کہ فقط آنی ہے

 

پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات

مثل سابق وہی جسمانی ہے

 

روح تو سب کی ہے زندہ ان کا

جسم پر نور بھی روحانی ہے

 

اوروں کی روح ہو کتنی ہی لطیف

اُن کے اجسام کی کب ثانی ہے

 

پاؤں جس خاک پہ رکھ دیں وہ بھی

روح ہے پاک ہے نورانی ہے

 

اس کی ازواج کو جائز ہے نکاح

اس کا ترکہ بٹے جو فانی ہے

 

یہ ہیں حَیّ ابدی ان کو رضؔا

صدق وعدہ کی قضا مانی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات