انتظار

تو اپنی ذات میں گُم ہے
میں خود سے بے خبر ہوں
ایک تنہا سا شجر ہوں
بہتی ندّی کے کنارے
چلچلاتی دھوپ میں
کب سے کھڑا ہوں
اپنی ہی ضد پر اڑا ہوں
تو کبھی آئے سہی
اک بار میرے پاس
تیرے دل میں ہو احساس
تو سائے بچھا دوں گا
سواگت میں تِرے
اپنی تھکن ساری بھُلا دوں گا
تجھے ٹھنڈی ہوا دوں گا
میں کب سے منتظر ہوں!
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

امداد
ہے گذارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے
اوجِ صدق و صفا سیّدی مصطفیٰؐ
فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے
ن‘‘(نون)’’
آپؐ سے میری نسبت مرا فخر ہے
اسطرح قید ہوں ذات کے خول میں
کچھ اِس خیال سے شہ کے قریں نہیں جاتے
آتا ہے جب بھی لفظِ محمدؐ اذان میں
ثنأ کی پتّیاں جو پھول ہونا چاہتی ہیں