اندھیری راتیں اجال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

اندھیری راتیں اجال رکھیں بہ اسمِ احمد

شکستہ سانسیں بحال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

اندھیرے سارے اُس اسمِ اعظم سے ہی چھٹے ہیں

مصیبتیں ساری ٹال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

جو چند سطریں بطورِ مدحِ نبی ہوئی ہیں

وہ بہرِ بخشش سنبھال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

ملاحتیں اور صباحتیں دو جہاں میں ساری

ہیں دستِ قدرت نے ڈال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

دورنِ نعتِ نبی جو گھڑیاں وہاں پہ گزریں

وہ پیشِ نطق و خیال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

درود پڑھنے کا فائدہ ہے دعائیں رب نے

قبول قبل از سوال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

ہمارا مسکن ہو شہرِ طیبہ کہ جس میں رب نے

تمام اشیاء کمال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

مطافِ نطق و بیاں بنا کے مدینہ، منظرؔ

قلم کی سانسیں نہال رکھیں بہ اسمِ احمد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ