اندھیرے میں اُجالا آپ سے ہے

اندھیرے میں اُجالا آپ سے ہے

مرا ہر اک سہارا آپ سے ہے

 

بھنور میں ہی وگرنہ رہتی ناؤ

ملا اس کو کنارہ آپ سے ہے

 

لیا جب نامِ آقا، جی اُٹھا ہے

کہ ہر بیمار اچھا آپ سے ہے

 

تھا شہروں میں فقط اک شہر یثرب

مدینہ بھی مدینہ آپ سے ہے

 

ملاتا ہے مکیں کو لا مکاں سے

حقیقت کا وہ رستہ آپ سے ہے

 

طوافِ گنبدِ خضرا کرے ہے

ہر اک اڑتا پرندہ آپ سے ہے

 

خدا نے آپ کو قاسم بنایا

سبھی تقسیم ہوتا آپ سے ہے

 

ہر اِک شے آپ کے دم سے بھلی ہے

ہے جو انسان اچھا، آپ سے ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ