اند یشہ

ابھی دو(۲) دن گزرنے دو دسمبر کے
کہیں ایسا نہ ہو
پھر حادثہ اِک رونما ہو جائے
ہم تم ایک دوجے سے بچھڑ جائیں
دسمبر اب کے ہے سفّاک
اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے
مجھ کو لمحہ لمحہ ایک خدشہ ہے
ابھی گھر میں ہی تم بیٹھی رہو
بہتر ہے
مجھ سے مت ملو
بہتر ہے
کیلنڈر بدلنے دو ذرا دیوار سے
پھر چاہے آجانا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ