اند یشہ

ابھی دو(۲) دن گزرنے دو دسمبر کے
کہیں ایسا نہ ہو
پھر حادثہ اِک رونما ہو جائے
ہم تم ایک دوجے سے بچھڑ جائیں
دسمبر اب کے ہے سفّاک
اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے
مجھ کو لمحہ لمحہ ایک خدشہ ہے
ابھی گھر میں ہی تم بیٹھی رہو
بہتر ہے
مجھ سے مت ملو
بہتر ہے
کیلنڈر بدلنے دو ذرا دیوار سے
پھر چاہے آجانا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کر کے مولا سے دعائیں ایک گڑیا لی گئی
اگر تُو کہے تو
جنگِ ستمبر 1965ء
ادھ کھلی گرہ
زخم ہائے جاں لئے مرہموں کی آس میں
میں کہاں جائوں تیرے در کے سوا
آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر
شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا
سوچتا ہوں صیدِ مرگ ِ ناگہاں ہو جاؤں گا
مجھے تمغۂ حُسنِ دیوانگی دو