انسان سے کیا کام بھلا ہو نہیں سکتا

انسان سے کیا کام بھلا ہو نہیں سکتا

بس حقِ ثناء ہے کہ ادا ہو نہیں سکتا

 

قامت ہے وہ شہ پارۂ فنِ یدِ قدرت

یعنی کہ حسیں اس سے سوا ہو نہیں سکتا

 

سیرت ہے وہ آئینۂ قرآنِ مقدس

کہنا مجھے کم اس سے روا ہو نہیں سکتا

 

وہ بندۂ محبوبِ خدا صاحبِ اسرا

عظمت میں کوئی اس سے بڑا ہو نہیں سکتا

 

مشکِ ختن و مشکِ خطا خوب ہے لیکن

بوئے تنِ سیمیں سے سوا ہو نہیں سکتا

 

ان کے دُرِ دندانِ مبارک سے یقیناً

دُرِ عدنی بیش بہا ہو نہیں سکتا

 

تاریخ کے اوراق سے ثابت ہے کہ ان سا

مرد افگن میدانِ وغا ہو نہیں سکتا

 

مستغنی ہر شے وہ شہِ فقر و غنا ہے

اس پر اثرِ حرص و ہوا ہو نہیں سکتا

 

انگلی کے اشارے سے ہے دو نیم قمر اُف

ابرو کا اشارہ ہو تو کیا ہو نہیں سکتا

 

اللہ نے اس ذات پہ کی ختم نبوت

اب آئے نبی کوئی نیا ہو نہیں سکتا

 

امت کے گنہ گاروں سے ناراض تو ہو گا

منہ پھیر لے اتنا بھی خفا ہو نہیں سکتا

 

پڑھئے جو درود اس پہ شب و روز بہر دم

حق اس کا ادا پھر بھی ذرا ہو نہیں سکتا

 

ہے بخششِ امت کا طلب گار خدا سے

کیسے میں کہوں اس کا کہا ہو نہیں سکتا

 

وہ کیا مری نظروں میں ہے کیا پوچھ رہے ہو

سب کچھ ہے نظرؔ ایک خدا ہو نہیں سکتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ