انھی کے نور سے روشن ہے راستہ میرا

انھی کے نور سے روشن ہے راستہ میرا

خدا کے بعد فقط وہ ہیں آسرا میرا

 

ہر ایک سانس پہ لکھا ہوا ہے نام اُن کا

قدم قدم پہ ہے آقا سے واسطہ میرا

 

مدینہ پاک میں روضے کے پاس بیٹھا ہوں

کسی نے ملنا ہے مجھ سے تو لے پتا میرا

 

درِ حبیب پہ جانے کی دیر تھی گویا

نوازتا ہی گیا مجھ کو کبریا میرا

 

حضور ! آپ کی یادوں میں اشک تھمتے نہیں

کہاں پہ روکے سے رکتا ہے قافلہ میرا

 

حضور پاک کی رحمت ہے ساتھ ساتھ مرے

فدا نہ ٹوٹنے پائے گا حوصلہ میرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ