انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

 مجھے لگتا ہے پاکستان میں سیاست ‘ مذہب یا کسی بھی اختلافی موضوع پہ بات کرنا فقط خود کو ذلیل کرنے کے مترادف ہے۔
اور پھر میں اس بات پہ یقین  رکھتی ہوں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے
ایک ڈیوٹی جو ہماری ہے ہی نہیں ہم خواہ مخواہ خود کو اسکا ماہر کیوں مان رہے ہیں اور نہ صرف یہ کہ ماہر مانیں بلکہ اس بات پہ اصرار بھی کریں کہ ہماری ہی بات مانی جائے اور اسے ہی لاگو کیا جائے ـ عجیب احمقانہ صورتحال ہے ـ
فوج نے کیا کرنا ہے یہ بھی ہمیں ہی بتانا ہے ـ
یا فوج کیا کر رہی ہے ہمیں کیوں نہیں بتاتی ..
کیا کوتاہ نگاہی ہے کہ اب فوج اپنے فیصلوں اور کاموں کی تشہیر سوشل میڈیا پہ آکے کیا کرے گی؟ ؟؟
کیا حکومت بیچ چوراہے پہ مشاورت کا بازار گرم رکھے گی ـ
میں ایک چھوٹے سے ادارے کی ہیڈ ہوں مجھے کسی استاد کو سرزنش کرنی ہو یا کسی طالب علم کو ڈانٹنا ہو تو انھیں اکیلے بلا کے بات سمجھائی جاتی ہے ـ
ایسا نہیں ہوتا کہ یہاں ان سے کچھ غلط ہوا وہاں انھیں نوکری سے فائر کر دوں یا طلبا کو کالج سے نکال دوں ـ
ہاں بار بار کی جانے والی ایک ہی قسم کی غلطی پر اولاً نوٹس دیا جاتا ہے ـ پھر ایکشن لیا جاتا ہے ـ
جبکہ سوشل میڈیائی ذہنیت ہر شے کو فوراً سے پیشتر آناً فاناً بھسم کروانا چاہتی ہے ـ
عوام سے زیادہ گلہ ہے بھی نہیں کیونکہ عوام کم فہم ہوتے ہیں اور دور اندیشی سے کام لینا انھیں آتا نہیں ہے لیکن جس طریقے سے ہمارے دانشور طبقے نے سوشل میڈیا کو بغداد کے چوراہے بنا رکھا ہے اب تو اس سب سے گھن آنے لگی ہے ـ
کشمیر کا مسئلہ نہایت حساس ‘ غور طلب اور حل طلب مسئلہ ہے ـ ہر حساس اور دین و ملت سے محبت رکھنے والے کے لیے تکلیف کا باعث ہے ـ لیکن اس مسئلے کو لے کر جس طریقے سے گالم گلوچ لعن طعن کا بازار گرم کیا گیا ہے نہایت شرمناک ہے
عمران خان صاحب نے احتجاج کے طور پہ آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کی بات کی ـ
اسکا جو مذاق اڑا جو طعنے بازی ہوئی جو زبان کے چٹخارے کے لیے تفریح کی گئی تو سمجھ نہیں آتی تھی کہ
کس سے منصفی چاہیں ـ
پھر عمران خان کا جلسہ اس جلسے میں فنکار برادری کی شرکت
الامان الحفیظ …
یہاں میں چند باتیں شئیر کرنے کی جسارت کرنا چاہوں گی ـ
ہم قبائلی نظام سے تعلق رکھتے ہیں ـ قبائلی نظام میں ذات پات کے تصورات نہایت سخت ہیں ـ
موچی ‘ نائی ‘ جولاہا ‘ میراثی ‘ ترکھان غرض سبھی پیشہ ور جنہیں ہمارے ہاں کسب گر کہا جاتا ہے کمی کمین تصور کیے جاتے ہیں ـ ان سے رشتے ناطے تعلقات میں احتیاط برتی جاتی ہے ـ اب یہ بات انصاف و مساوات پہ مبنی ہے یا نہیں ہے یہ ایک الگ بحث ہے لیکن یہ بات اس معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہے ـ
ہم گاؤں میں پلے بڑھے نہیں اسلیے وہاں کے کلچر کا اندازہ بھی نہیں ـ
ایک مرتبہ کسی رشتے دار کی شادی پہ گاؤں جانا ہوا ـ
دلہن کے کپڑے جوتے سبھی کاموں کی تیاری نائن کرتی ہے ـ خالہ نے کہا نائن آجائے تو انھیں اطلاع کر دی جائے ـ
نائن کے آنے پہ ہم نے خالہ کو آواز دے کے کہا خالہ نائن آگئی ـ
اس بات پہ ہماری اماں کا پارہ آسمان کو چھو گیا ـ اور خود نائن کا بھی ـ
ہماری وہ کلاس لی گئی کہ ہم نے پورا دن روتے ہوئے گزارا …
وہ ذات کے نائی ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم انھیں پکارنے میں تکریم سے کام نہ لو ـ اس قدر ہلکی بات کرنے سے انسان اپنی ذات خاندان حسب نسب کو آشکار کرتا ہے ـ کیوں تمھاری یہ ہمت ہوئی کہ تم نے ایک انسان کے منہ پہ اسکی تذلیل کی ـ
تو اماں کیا وہ نائی نہیں؟ ؟
وہ جو بھی ہیں تم کیا ہو؟ ؟ کیا تمھیں یہ تمیز نہیں کہ تم خالہ چچی ماسی کچھ بھی کہہ کے بلا لو ـ
اسی بات کو اپنے کلچر میں دیکھیے آپکے ہاں کام کرنے والی آتی ہے تو آپکے بچے اطلاع دیتے ہیں اماں! ماسی آگئی ہے ـ
اگر بچے کہیں اماں نوکرانی آگئی تو کیا آپ انھیں سرزنش نہیں کریں گے؟ ؟
جب ہم نے اور آپ نے برقع میں کھڑے ہو کے احتجاج کیا تو ہمارے دلوں میں درد تھا اور جب فنکار برادری احتجاج کرنے جلسے میں آئی تو ہم نے میراثی میراثی کہہ کے خود کو اپنی اوقات یاد دلائی؟ ؟؟
وہ جو بھی تھے ہم کیا تھے؟ ؟
رویوں پہ نقد کیجیے لوگوں کی ذات پہ تنقید کا اختیار انسانوں کے پاس کہاں سے آیا؟ ؟
آپکا مؤقف ہو سکتا ہے کہ وہ دکھاوے کے لیے آئے ـ ایسا ہی ہوگا ..آپ اپنے مؤقف میں بالکل درست ہونگے لیکن ہم نے اپنی زبان کا استعمال کیسے کرنا ہے؟ ؟
یہ جو ٹیلی ویژن پہ بیٹھ کر صبح شام پھپھے کٹنیوں والی زبان ہمارے اینکر صحافی دانشور حکمران استعمال کر رہے ہیں ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے؟ ؟
ہم اسی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جنہیں اس دنیا میں اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا تھا ـ
جن کے لیے کہاجاتا تھا
وہ بہترین اخلاق کے مالک تھے ـ
تو ہم نے کہاں دوسروں کی کر غلطی پکڑ کر اپنے چٹخاروں کی خاطر لعن طعن سیکھ لی؟ ؟؟
قمیص میں سوراخ ہے دیکھو بھئی
ارے یہودی ہے یہودی
منافق ہے
ابے جلسوں سے کچھ نہیں ہوتا
دھمکی کیوں نہیں دیتا
میزائل نہیں پھینک سکتا تو بھڑک مارنی بھی نہیں آتی کیا
تمھی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ ؟
ہمارے ہاں ہر پیدا ہونے والے بچے کو جرگے کے اصول سکھائے جاتے ہیں ـ آپ بھی سنیے
بچے جرگہ بیٹھا ہو تو ہلکی بات مت کرنا ( ایسی بات جس سے سبپس تم پہ غضب ناک ہوجائیں اور تمھارا کردار منفی دکھائی دے)
جب بھی مؤقف بیان کرنا تو مؤقف سخت اور آواز نرم رکھنا ـ
جرگے میں اپنے مخالف کو کبھی دھمکی مت دینا ( کہیں ایسا نہ ہو تم دھمکی دے کر سب کو اپنے اوپر گواہ بنا لو اور مخالف تم پہ وار کر کے خود مظلومیت کا رونا پیٹے ـ تب لوگ تمھاری دھمکی یاد کروائیں گے ـ اور تمھیں اپنی صفائی دینی مشکل ہو جائے گی) ـ
کوئی کتنا ہی ہریشرائز کیوں نہ کرے اپنے مؤقف سے پیچھے مت ہٹنا ـ سننا سب کی لیکن کرنا اپنی ـ
جرگے کو کبھی اپنے ارادوں کی ہوا مت لگنے دینا ـ ( کیونکہ وہاں دونوں فریق کے ساتھ ثالثی بھی موجود ہوتے ہیں ـ وہاں لوگ دونوں فریقین کی ہر ہر حرکت سے معاملے کی حقیقت کا اندازہ لگاتے ہیں ـ کسی بھی ایک فریق کی غلط حرکت رائے عامہ کو اسکے خلاف کر سکتی ہے ـ)
اپنی بات کی وضاحت اور فصاحت ہمیشہ بیان کرنا ـ منہ سے ہمیشہ اچھی بات کہنا ـ
اگر تم ٹھان چکے ہو کہ فریق مخالف کا سر قلم کرنا ہے تو وار بھر پور کرنا لیکن چال دھیمی چلنا ـ ( کیونکہ مخالف کے قتل کے بعد لوگ پھر سے بیٹھیں گے صلح صفائی کی خاطر ـ اور وہ لوگ تمھارے اعمال بیان کریں گے ـ قاتل نے اگر اپنے منصوبے کو خفیہ رکھ کر رائے عامہ کو ہموار رکھا ہوگا تو لوگ قتل کو برا کہیں گے لیکن قاتل کے لیے گنجائش رکھیں گے ـ)
رائے عامہ کی طاقت کو ہمیشہ یاد رکھنا ـ حکمت سے فیصلہ کرنا ـ جلد بازی سے بچنا ـ
بہترین سردار وہ ہے جسکی زبان شائستہ ‘ عمل دلیرانہ ‘ نگاہ بے باک اور دماغ ٹھنڈا ہو ـ
ان تمام اصولوں کو کہاں کیسے لاگو کرنا ہے ـ کس بات کا سرا کس سے جوڑنا یہ آپکی صوابدید پر چھوڑ دیا ـ
لیکن ایک بات یاد رکھیے گا ـ
نادان دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے ـ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر یونہی تمام ہوتی ہے
جو سوئے دار سے نکلے
پکارا ہم نے جو " اُن " کو
یمین و یسار
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
جب ہم ملے
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
خط بنام سہیلی
خط بنام دختر ( ۲)