اردوئے معلیٰ

Search

ان سے مل کر بچھڑی نظریں بن کے مقدر پھوٹ گیا

اُن کے ہاتھوں کھیل میں آخر دل کا کھلونا ٹوٹ گیا

 

افسانہ ہے جلوۂ ساقی ، ہائے کہاں اب بادۂ ساقی

کش مکشِ اندوہِ وفا میں ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا

 

غنچے چٹکے دیکھ نہ پائے ، پھول کھلے سب نے دیکھے

گلشن گلشن عام ہے شہرت کلیوں کا دل ٹوٹ گیا

 

دورِ بہاراں آئے نہ آئے ، روئے نگار نہ جلوہ دکھائے

رنگِ محفل ! اب وہ کہاں پیمانۂ دل ہی ٹوٹ گیا

 

تم سے شکایت کس کو؟ مجھ کو ؟ رہنے دو کچھ بات بھی ہو

میں نے باندھا عہدِ محبت ، تم نے توڑا ٹوٹ گیا

 

جان پہ ہم نے کھیل کے عشرتؔ بازیٔ عشق کو جیت لیا

اب کیا پروا ، اب کیا غم ، گر سارا عالم چھوٹ گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ