اردوئے معلیٰ

ان کا احساں ہے ، خدا کا شکر ہے

دل ثنا خواں ہے ، خدا کا شکر ہے

 

دولت عشق نبی سینے میں ہے

پاس ایماں ہے ، خدا کا شکر ہے

 

اسوہء خیر البشر ہے سامنے

راہ آساں ہے ، خدا کا شکر ہے

 

مجھ سا عاصی اور شہرِ نور میں

اُن کا مہماں ہے ، خدا کا شکر ہے

 

میرے فکر و فن کا ، میری زیست کا

نعت عنواں ہے ، خدا کا شکر ہے

 

ان کے در پر حاضری کا اے صبیح

پھر سے امکاں ہے ، خدا کا شکر ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات