اردوئے معلیٰ

Search

ان کو دل میں بسا لیا ہم نے

دل مدینہ بنا لیا ہم نے

 

ان کے دامن سے ہو کے وابستہ

سب سے دامن چُھڑا لیا ہم نے

 

مل گئے وہ تو پھر کمی کیا ہے

دونوں عالم کو پا لیا ہم نے

 

تاجور بھی جہاں پہ سائل ہیں

ایسا دربار پا لیا ہم نے

 

نقش پائے حضورِ انور کو

اپنا کعبہ بنا لیا ہم نے

 

ان کے نامِ مبیں کو شام و سحر

اک وظیفہ بنا لیا ہم نے

 

ان کی چوکھٹ پہ رکھ کے پیشانی

بختِ خفتہ جگا لیا ہم نے

 

ان کا ملنا سکندرؔ ایسا ہے

جیسے خالق کو پا لیا ہم نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ