اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

ان کی ذاتِ اقدس ہی، رحمتِ مجسم ہے

ان کی ذاتِ اقدس ہی ، رحمتِ مجسم ہے

عرش پر معظّم ہے ، اور فخرِ عالم ہے

 

یہ شرف ملا کس کو ، فرش کے مکینوں میں

قدسیوں کی محفل میں ، ذکر ان کا پیہم ہے

 

مخزنِ تقدس ہے ، چشم پُر حیا اُن کی

گیسوئے حسیں اُن کا ، نرم مثلِ ریشم ہے

 

قطرۂ عرق روشن ، یوں ہے اُن کے چہرے پر

پھول کی ہتھیلی پر ، جیسے دُرِّ شبنم ہے

 

بے مثال سیرت ہے ، اُن کی ڈھونڈتے کیا ہو

انبیا میں افضل ہے ، اکرم و مُکرّم ہے

 

اُن کے جہدِ پیہم سے ، انقلابِ نو آیا

شرک کو ندامت ہے ، اور کفر برہم ہے

 

اُن کی مدح میں آگے ، اور کیا لکھے ساحلؔ

اِس کی عقل ناقص ہے ، اِس کا علم بھی کم ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مصطفیٰؐ کے کوچے میں نور کے بسیرے ہیں
حشر کے دن رتبۂ والائے سرور دیکھنا
کم نصیبوں کو ملے نوری سہارا یا نبیؐ
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
نبیوں کے نبیؐ، اُمّی لَقَبی کونین کے والی! میں تیرا سوالی
دل ہوا روشن محمدﷺ کا سراپا دیکھ کر
زمزمہ سنج ہے بلبل، کہیں کُوکی کوئل
یونہی نہیں بہ حجّتِ لولاک میں کہوں
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے