اردوئے معلیٰ

Search

 

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں

 

جب آگئی ہیں جوش رحمت پہ ان کی آنکھیں

جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہیں ہنسا دیئے ہیں

 

اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا

تم نے تو چلتے پھرتے ہیں مردے جلا دیئے ہیں

 

ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو

جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دیئے ہیں

 

ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اٹھتے ہونگے

اب تو غنی کے در پر بستر جما دیئے ہیں

 

اسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قدسیوں کے

ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیئے ہیں

 

آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب

کشتی تمہیں پہ چھوڑی لنگر اٹھا دیئے ہیں

 

دولہا سے اتنا کہہ دو پیارے سواری روکو

مشکل میں ہیں براتی پر خار با دیئے ہیں

 

اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا

رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیئے ہیں

 

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا

دریا بہا دیئے ہیں در بے بہا دیئے ہیں

 

ملک سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم

جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ