اردوئے معلیٰ

Search

ان کی ہوئی جو بات تو ٹھنڈی ہوا چلی

پڑھنے لگا میں نعت تو ٹھنڈی ہوا چلی

 

گلیوں میں کتنا حبس تھا گزرے جب ایک بار

وہ فخرِ کائنات تو ٹھندی ہوا چلی

 

دن ڈھل رہے تھے دھوپ کی حدت میں دیر سے

آئی شبِ برات تو ٹھنڈی ہوا چلی

 

زائر نے سنگِ روضہِ اقدس کو چُھو کے جب

چُوما خوشی سے ہاتھ تو ٹھنڈی ہوا چلی

 

مسکان آئی بن کے لبوں پر حضور کے

جب پیکرِ صفات تو ٹھنڈی ہوا چلی

 

شاخِ دعا پہ لکھا تری نعت کا جو شعر

اُگ آئے سبز پات تو ٹھنڈی ہوا چلی

 

ایماں کا ہاتھ تھام کے ایقاں سے جب ہوئی

وہم و گماں کو مات تو ٹھنڈی ہوا چلی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ