ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا

ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہو گیا

اغنیا کے درمیاں سب سے تونگر ہو گیا

 

مل گیا جس روز سے ان کی غلامی کا شرف

اوج پر اس روز سے میرا مقدر ہو گیا

 

ہو گئی جس پر کرم کی اک نظر واللہ وہ

گر وہ قطرہ تھا تو پھر بڑھکر سمندر ہوگیا

 

جو ہوا رخصت جہاں سے دولتِ ایماں لئے

قبر میں اور حشر میں ہر جا مظفر ہو گیا

 

تذکرہ پڑھ کر بلال و قرن کے دلدار کا

بوئے عشق مصطفیٰ سے دل معطر ہوگیا

 

جو فدائے سرورِ عالم یقیناً ہو گیا

وہ سمجھ لو وقت کا اپنے سکندر ہو گیا

 

عشق و عرفاں کا بھی جس نے سرد مئے، پیالہ پیا

مست، بے خود ہو گیا، مردِ قلندر ہو گیا

 

جو ” فنا فی اللہ،، کے درجہ پے فائز ہو گیا

بحرِ عرفاں کا یقیناً وہ شناور ہو گیا

 

جب سے تو لکھنے لگا سرکار کی مدحت امیرؔ

درمیانِ اہلِ مدحت تو سخنور ہو گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بعد ثنائے ربِّ معظَّم، نعتِ نبی ہو جاری پیہم
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات
خدا کی خاص رحمت اور کرم سے 
پھر قصیدہ حُسن کا لکھا گیا
شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے
ہر گھڑی ہے تمنا یہی یا نبی
شجر کے دل میں گھاؤ کر گیا ہے
لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے
اذاں میں اسمِ نبی سن لیا تھا بچپن میں
ترے نام کے نور سے ہیں منور مکاں بھی مکیں بھی

اشتہارات