اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد

اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد

عجز، مستغنی ہُوا آپ کی خیرات کے بعد

 

موجۂ بادِ مدینہ نے رکھی لاج مری

دل تسلی میں ہے اب تلخئ جذبات کے بعد

 

ساعتِ سیرِ معلّٰی سے ہُوئی رمز عیاں

بخدا وقت ہے اِک اور بھی دن رات کے بعد

 

عرش تو ایک پڑاؤ تھا ’’دنیٰ‘​‘​ سے آگے

وہ ملاقات ہُوئی پردئہ لمعات کے بعد

 

ایک لمحے کو سہی، دید کا امکاں دے دے

کس کو جینا ہے ترے ہجر کی ساعات کے بعد

 

چاہتا ہُوں یہ مرا نُطق معطل ہو جائے

بات کچھ بنتی نہیں، مجھ سے، تری بات کے بعد

 

شارعِ ہجرہ سے یوں دِکھتا ہے وہ گنبدِ سبز

جیسے ایقان نے جھانکا ہو خیالات کے بعد

 

دُور چمکا ہے کوئی خاورِ حیرت بن کر

نقشِ نعلینِ کرم اوجِ کمالات کے بعد

 

قافلے والو! ابھی کہہ لو پئے ضبط، مگر

کچھ نہیں کہنا مدینے کے مضافات کے بعد

 

بے نیازِ غمِ تحدید ہے مقصودؔؔ وہ فیض

سلسلہ رہتا ہے جاری مری حاجات کے بعد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات