اَزل سے یہی ایک سودا ہے سر میں

اَزل سے یہی ایک سودا ہے سر میں

تجھے دیکھ لوں، تجھ کو بھر لُوں نظر میں

 

زمیں کی طرح میرا سر گھومتا ہے

کہاں طاقتِ حمدِ باری بشر میں

 

مجھے جسم بخشا، مجھے روح بخشی

اُجالا کیا تنگ، تاریک گھر میں

 

یہاں جو بھی شے ہے، کمال اُس کے طے ہے

ہوا باندھ دی ہے پرندے کے پر میں

 

عجب نعمتیں شب کے پردے میں بخشیں

عجب رحمتیں گھول دی ہیں سحر میں

 

درِ کعبہ پر دیر سے چُپ کھڑا ہوں

قیامت کا منطر ہے میری نظر میں

 

محمدﷺ میں بھی حمد ہے جزوِ اعظم

کہی حمد ہی نعتِ خیرالبشر میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ
ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے
تیری قدرت کی خوشبو، ہر گل ہر ذرے میں تُو
خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا
خدا کا شُکر کرتا ہوں، خدا پر میرا ایماں ہے
خدا اعلیٰ و ارفع ہے، خدا عظمت نشاں ہے
حرم کے سائے میں سارے مسلماں رُوبرو بیٹھیں
خدا کے حمد گو جنگل بیاباں
جو احکامِ خدا سے بے خبر ہے