اردوئے معلیٰ

اُبھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نوید

کہ تیری نعت ہے سرکار زندگی کی نوید

 

اُداس لمحوں میں رہتی ہے ساتھ ساتھ مرے

ہے بے کلی میں تری یاد اِک خوشی کی نوید

 

حدیثِ قولی ہو، فعلی ہو یا کہ تقریری

زمانہ ان سے ہی لیتا ہے آگہی کی نوید

 

نثار شان و شرف پر ترے کہ جن کے سبب

غلام جسم نے پائی تھی خواجگی کی نوید

 

حضور آپ نے بانٹے ہیں عزتوں کے چراغ

حضور آپ نے بخشی ہے خود گری کی نوید

 

ابھی ابھی کوئی جھونکا ہَوا کا آیا تھا

ابھی ابھی کوئی آئی ہے اُس گلی کی نوید

 

سوادِ عرصۂ وحشت میں ہوں، مگر مقصودؔ

ہر ایک لمحۂ مدحت ہے دل لگی کی نوید

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات