اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے

اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے

وہی ہے نکتۂ ایماں اگر گماں کیجے

 

نظر کو خیرہ کرے چاندنی میں اک تارا

جو روبرو کبھی تصویرِ آسماں کیجے

 

اُسی کو دیکھیے بزمِ ولا میں صدر نشیں

اُسی کے اسمِ مبارک کو حرزِ جاں کیجے

 

اُسی سے کہیے کہ ہے سر پہ دُھوپ محشر کی

اُسی کی ذاتِ گرامی کو سائباں کیجے

 

وہ دل کی سمت جو آئیں تو اپنی آنکھوں کو

زمین کیجے، عقیدت کو آسمان کیجے

 

جو دل میں ہے شررِ آرزو بھڑک اُٹّھے

اس ایک لفظِ محبت کو داستاں کیجے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
بستیاں پیار کی دنیا میں بسانے والے
دو جہاں پر ہے جو چهایا وہ اجالا آپ ہیں
حقیقت میں وہ لطف زندگی پایا نہیں کرتے

اشتہارات