اُس زلف کا اعجاز کسی کام نہ آیا

اُس زلف کا اعجاز کسی کام نہ آیا

میں رندِ بلا نوش تہہِ جام نہ آیا

 

کل رات معمائے خمِ کاکلِ خوباں

جب تک نہ ہوا حل ، مجھے آرام نہ آیا

 

اُس بندِ قبا کا جو ہوا مسئلہ درپیش

مے خوار کا کوئی بھی ہنر کام نہ آیا

 

اُس رات ستاروں میں بھی دیکھا گیا ٹھہراؤ

جس رات کو گردش میں مرا جام نہ آیا

 

مے خانے کا ہنگام نمونہ تھا ابد کا

گزرا بھی تو تحتِ سحر و شام نہ آیا

 

اُس زلف کو کھینچا نہ گیا تا بہ حدِ شوق

کچھ ولولۂ دل بھی مرے کام نہ آیا

 

کل رات مجھے اُس نے کنایت سے کیا یاد

کی بات کچھ اس طرح ، مرا نام نہ آیا

 

کیا فیصلۂ عشق ہو نقدِ دل و جاں پر

اس کا بھی مزا بے درم و دام نہ آیا

 

وہ بُخل شکر بخشیٔ لب میں تھا کہ مجھ کو

اس نسخۂ صدری سے بھی آرام نہ آیا

 

بت خانہ تو تھا ہی مرا گرویدۂ اخلاص

میں حُجلۂ حُوراں سے بھی ناکام نہ آیا

 

ساغر کی اماں میں تھا مرا کوکبِ اقبال

زیرِ اثرِ گردشِ ایام نہ آیا

 

خود ٹوٹ گیا بندِ قبا بے خبری میں

صد شکر مرے ہاتھ پہ الزام نہ آیا

 

لمحہ جو ترے ساتھ گزارا سو ابد تھا

تعریف میں ماضی کی یہ ہنگام نہ آیا

 

کل رات وہ نقشِ ازلی جام کی تہہ سے

اُبھرا تو سہی تا بہ لبِ جام نہ آیا

 

عالم ہے یہ اب بے خبری کا کہ کسی نے

پوچھا تو مجھے یاد ترا نام نہ آیا

 

تھا گوشۂ زنداں کی طرح عالمِ اسباب

تا عمر مری روح کو آرام نہ آیا

 

چھلکا کے سبو ہم نے خزاں کا بھی دیا ساتھ

لب پہ گلۂ گردشِ ایام نہ آیا

 

کھولا تھا کبھی پیرہنِ دُختِ کنشتاں

پھر راس مجھے جامۂ احرام نہ آیا

 

وہ رازِ جنوں جو مرے سینے میں تھا محفوظ

وحشت کے بھی عالم میں سرِ عام نہ آیا

 

کل شب مجھے جبریل کی آمد کا تھا احساس

دیکھا تو نظر کچھ بھی سرِ جام نہ آیا

 

ہم جال بچھاتے ہی رہے زہد و وَرع کے

وہ آہوئے اسرار تہہِ دام نہ آیا

 

آئینہ جو دل کا ہوا عکاسِ بدی بھی

کچھ صیقلِ آئینہ پہ الزام نہ آیا

 

میں رند تھا مے خانے نے بخشا مجھے اعزاز

شاہوں سے مجھے خلعت و انعام نہ آیا

 

بہکا بھی جو میں حرفِ گزارش نہ ہوا خبط

کچھ گفتگوئے شوق میں اِبہام نہ آیا

 

جو میری غزل سے ہوا مسحور پھر اس کو

لطفِ قصصِ دارا و بہرام نہ آیا

 

تھا صاحبِ اسرار و کرامت تو ظفرؔ بھی

لیکن یہ قدح خوار سرِ عام نہ آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ