اُنؐ کی رحمت کا کچھ شمار نہیں

اُنؐ کی رحمت کا کچھ شمار نہیں

کوئی بھی اُنؐ سا غم گسار نہیں

 

کیوں نہ ایمان ہو مرا کامل

اُنؐ سے بڑھ کر کسی سے پیار نہیں

 

آپؐ رحمت ہیں عالمیں کے لیے

منتخب کوئی اِک دیار نہیں

 

آپؐ کی ذات، فخرِ موجُودات

صرف میرا ہی افتخار نہیں

 

ہے جمالِ حضورؐ آنکھوں میں

اِس سے بڑھ کر کوئی وقار نہیں

 

آپؐ کا پیار جس نے جیت لیا

اس کی قسمت میں کوئی ہار نہیں

 

جب سے دیکھا ظفرؔ! رُخِ زیبا

دیدہ و دِل پہ اختیار نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات