اردوئے معلیٰ

Search

اُن سا تو دو جہان میں ان کے سوا کہیں نہیں

ہیں تو حسیں بہت مگر اُن سا کوئی حسیں نہیں

 

ان کی ہے جو پناہ میں کوئی بھی دل ، حزیں نہیں

ان کے چمن کو دیکھ لیں ، پھول جو شبنمیں نہیں

 

خاک پہ آپ کا قدم اپنے لئے ہے آسماں

قدسیوں کو بھی ہے خبر اپنی زمیں ، زمیں نہیں

 

آپ کی بات میں ضیا ، آپ کا درس ہے جدا

آپ کے دین سے بڑا دنیا میں کوئی دیں نہیں

 

یوں ہے تو ہُوں قرار میں بخششِ بے شمار میں

آپ کے انتطار میں دل ہے مکاں ، مکیں نہیں

 

یہ ہے مرے نبی کا در ، یہ ہے سکون کا نگر

آدمی جانا چاہے گھر دل کہے گا نہیں نہیں

 

گنبدِ سبز پاس ہو، زندگی مجھ کو راس ہو

گنبدِ سبز دور ہے زندگی دلنشیں نہیں

 

ان کو مرے حضور کی باتیں سنائیے جناب

جن کی زبانیں تیغ ہیں لہجوں میں انگبیں نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ