اردوئے معلیٰ

اُن كی سیرت سراپا اثر ہو گئی

اُن كی سیرت سراپا اثر ہو گئی

زندگی روشنی كا سفر ہو گئی

 

اِک تبسّم كیا سو اُجالے كِھلے

ظلمتِ شب مٹی اور سحر ہو گئی

 

جب تصوّر كیا گنبدِ سبز كا

دل معطّر ہُوا آنكھ تر ہو گئی

 

اُن كی یادوں كا جواستعارہ بنی

وہ گھڑی عمر كی معتبر ہو گئی

 

ناتوانوں میں تاب و تواں آگیا

رہبری آپ كی چارہ گر ہو گئی

 

بے نشانوں كو اپنا نشاں مل گیا

فكرِ غارِ حرا معتبر ہو ہو گئی

 

اُن كا دامانِ رحمت ہی كام آئے گا

جب كبھی زندگی پُر خطر ہو گئی

 

نعت گوئی كے قابل میں فیضی كہاں

میرے آقا كی مجھ پر نظر ہو گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ