اردوئے معلیٰ

Search

آئینہ بنے گا خود بخود میرا اعتبار کیجیے

عشق سرور مدینہ میں دل کو بیقرار کیجیے

 

آمد رسول پاک کا ذکر بار بار کیجیے

جادۂ وفا سجائیے اور مشک بار کیجیے

 

ظلم کی اُڑیں گی دھجیاں رنج کی چھٹیں گی بدلیاں

وہ بھی دن ضرور آئے گا تھوڑا انتظار کیجیے

 

ایک لمحہ بھی نہیں سکوں کہتا ہے مرا دلِ حزیں

چل کے اب دیار طیبہ میں زیست خوشگوار کیجیے

 

کیا عجب یونہی نکل پڑے راستہ سکونِ قلب کا

ذکر طیبہ چھیڑ چھیڑ کر مجھ کو بے قرار کیجیے

 

رحمتوں کا ہوگا خود نزول ہو گی التجائے دل قبول

یاد مصطفیٰ میں رات دن آنکھیں اشکبار کیجیے

 

ہے یقیں کہ آپ کے بھی نام آئے گا حضور کا پیام

وہ کریں گے خود ہی انتظام سرورؔ انتظار کیجیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ