اردوئے معلیٰ

آرزوئے رسول کافی ہے

آرزوئے رسول کافی ہے

حبِ آل بتول کافی ہے

جب سے تھاما ہے دامن زہرا

رحمتوں کا نزول کافی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ