آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر

 

آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر

بڑھ رہا ہے مسلسل یہ ذوقِ سفر

 

چشمِ خفتہ کا ہے خوابِ بیدار یہ

آنکھ کھولوں مقابل ہو اُن کا نگر

 

کاش مل جائے میری جبیں کو بھی اب

میرے آقا کا ، سلطان کا سنگِ در

 

آپ ہیں آسرا عاصیوں کا حضور

اس لئے ہے شفاعت پہ سب کی نظر

 

بے سلیقہ ہوں میں کیسے توصیف ہو؟

بخش دے نعت کہنے کا مجھ کو ہنر

 

دم نکلنے سے کچھ پیشتر مرتضیٰؔ

مجھ پہ ہو جائے صلِّی علیٰ کی نظر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ