آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر

 

آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر

بڑھ رہا ہے مسلسل یہ ذوقِ سفر

 

چشمِ خفتہ کا ہے خوابِ بیدار یہ

آنکھ کھولوں مقابل ہو اُنؐ کا نگر

 

کاش مل جائے میری جبیں کو بھی اب

میرے آقاؐ کا ، سلطان کا سنگِ در

 

آپؐ ہیں آسرا عاصیوں کا حضور

اس لئے ہے شفاعت پہ سب کی نظر

 

بے سلیقہ ہوں میں کیسے توصیف ہو؟

بخش دے نعت کہنے کا مجھ کو ہنر

 

دم نکلنے سے کچھ پیشتر مرتضیٰؔ

مجھ پہ ہو جائے صلِّی علیٰ کی نظر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا
ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
گھِرے طُوفاں میں ہیں، نظرِ کرم سرکارؐ ہو جائے
مرے آقاؐ کرم یہ فرمائیں
وہی دورِ مصطفیؐ سا آئے لوٹ کر زمانہ
جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے