آسماں سے نور کی برسات ہے

آسماں سے نور کی برسات ہے

کس قدر پُر نور بزمِ نعت ہے

 

ہر دلِ صادق میں یادِ مصطفی

ہر لبِ صادق پہ اُن کی بات ہے

 

آنے والے ہیں محمد مصطفی

وجد میں محفل ہے ، ہر اک ذات ہے

 

چاند ، تاروں میں عجب ہے دلکشی

اللہ ، اللہ کیا سہانی رات ہے

 

دامنِ دل لے کے آ جاؤ ادھر

مرحبا! رحمت کی بھی سوغات ہے

 

اُن کی نسبت سے رضاؔ سب عزتیں

ورنہ میں کیا ، کیا مری اوقات ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

اشتہارات