اردوئے معلیٰ

Search

آقا غلام کب سے ہے اس انتظار میں

خیرات اذن کی ملے پہنچے دیار میں

 

پہنچوں جو در پہ آپ کے، سر ہو جھکا ہوا

آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہو دل بھی خمار میں

 

اس درپہ دیکھی نور کی برسات ہر گھڑی

قدسی بھی فیض پاتے ہیں ہر دم قطار میں

 

آتے ہیں تیرے شہر کی سب خاک چومنے

مجھ کو بھی شوق ہے یہی تیرے دیار میں

 

زاہدؔ مرے نصیب میں طیبہ کا ہو چمن

پڑھتا رہوں درود میں ہر اک بہار میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ