آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو

 

آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو

درپیش مجھے جب بھی مدینے کا سفر ہوں

 

لگ جائیں مری سوچ کو پر کاش کبھی جو

پرواز مری پہلی ہو احمدؐ کا نگر ہو

 

وہ کیف ِ حضوری ہو مجھے طوفِ نظر کا

اپنا ہی پتہ ہو ، نہ کسی کی بھی خبر ہو

 

درکار نہیں کچھ بھی مجھے شعر و سخن سے

اِک نعت تری بس مری محنت کا ثمر ہو

 

کرتے ہیں ترے اسم کا سارے ہی وظیفہ

اشعرؔ وہ فرشتہ ہو ، کوئی جن کہ بشر ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات