اردوئے معلیٰ

Search

 

آنکھوں نے جہاں خاک اُڑائی ترے در کی

خود قلب میں صورت اُتر آئی ترے در کی

 

کعبہ بھی، سرِ عرش بھی، فردوس و نجف بھی

وہ دل! جسے حاصل ہو رسائی ترے در کی

 

مقصود حقیقی نے قدم بڑھ کے لیے ہیں

جس نے بھی جہاں دی ہے دُھائی ترے در کی

 

میں اہلِ محبت میں امرالامراء ہوں

راس آئی ہے یوں مجھ کو گدائی ترے در کی

 

سر کیوں نہ جھکائیں بصد آداب فرشتے

منظور خدا کو ہے خدائی ترے در کی

 

سجدہ مرا کیسے نہ ہو؟ سجدوں کا بھی قبلہ

پیشانیٔ ایماں ہے کمائی ترے در کی

 

جلووں کے بھی جلوے سمٹ آئے مرے دل میں

آنکھوں نے مری خاک جو پائی ترے در کی

 

سر کو مرے کہتے ہیں صبیحؔ اہلِ نظر در

ممکن نہیں مجھ سے تو جدائی ترے در کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ