آنکھ محرومِ نظارہ ہو ، ضروری کیا ہے

آنکھ محرومِ نظارہ ہو ، ضروری کیا ہے

دل میں جب شوقِ زیارت ہے تو دوری ، کیا ہے

 

اُن کی تعظیم میں وہ آنکھ اٹھاتے کب ہیں

جو سمجھتے ہیں تقاضائے حضوری کیا ہے

 

"خواب میں دید یہاں ” اور شفاعت ” واں ہو”

بات پھر دنیا و عقبیٰ میں ادھوری کیا ہے

 

"حسنِ رحمت سے جہانوں کو منور کرنا”

دہر میں آپ کا ” مقصودِ ظہوری”  کیا ہے

 

رہِ سیرت پہ کبھی پاؤں نہ ڈولیں میرے

ماسوا اس کے، مری ، سعیِ شعوری کیا ہے

 

آپکی ہستی ہے ” تخلیقِ مکمّل ” آقا

ورنہ دنیا میں کوئی چیز بھی پوری ، کیا ہے

 

ظلمتِ دشت کے گمراہو! مدینے آؤ

آ کے نظارہ کرو گلشنِِ نوری کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گدا نواز ہے اور نازِ آب و گِل بھی ہے
عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا
تُوعنایتوں کا مجاز ہے، مری خواہشیں مرے نام کر
حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا
کفر کے قلعے گرانے آ گئے ہیں مصطفیٰﷺ
حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے
فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے
ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا
بڑھ کے نہ کوئی ان سے محبوب خدا دیکھا
جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں