آپ کے عشق سے منسوب ہوا خوب ہوا

آپ کے عشق سے منسوب ہوا خوب ہوا

دل کا کیا ہے دلِ مجذوب ہوا خوب ہوا

 

غیر کی مدح سرائی نہیں ہو گی مجھ سے

ان کی مدحت مرا اسلوب ہوا خوب ہوا

 

آپ کے در کی غلامی کے تو کیا ہی کہنے

آپ کا مجھ پہ کرم خوب ہوا خوب ہوا

 

نعت کہنے کی بدولت ملی مجھ کو عزت

اس عنایت سے میں محبوب ہوا خوب ہوا

 

حشر کی فکر نہیں زاہدِ خود رفتہ کو

جب سے یہ آپ سے منسوب ہوا خوب ہوا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ