آہنی دیوار میں در دیکھنا

آہنی دیوار میں در دیکھنا

ایک دن خود سے نکل کر دیکھنا

 

جیت کیسے چومتی ہے پاؤں کو

کشتیاں اپنی جلا کر دیکھنا

 

کون پھولوں سے سواگت کرتا ہے

کس کے ہاتھوں میں ہے پتھر دیکھنا

 

یاد کے سونے دریچوں سے کوئی

جھانکتا ہے میرے اندر دیکھنا

 

جان لینا فاختہ مجبور ہے

جب کوئی سہما کبوتر دیکھنا

 

مرتضیٰ اِک شام اُس کی آنکھ سے

ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر مسافر ہے سہارے تیرے
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تجھ میں اور مجھ میں وہ اب رازو نیاز آئے کہاں؟
گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
درد کی اپنی ریت وچھوڑا
یار ! تُو میرے درد کو میری سخن وری نہ جان
تمہارے درد سے اپنے ملال سے خائف
حزنیہ ہے کہ طربیہ، جو ہے