اردوئے معلیٰ

Search

اٹکا ہے بڑی دیر سے خوش فہم کا دم بھی

تم ہاتھ جھٹک دو کہ سہولت سے مَرے دل

 

یہ کم ہے کہ بے آس دھڑکتا ہے ابھی تک

اب اور بھلا خآک کرامات کرے دل

 

جاتے ہوئے لمحے نہ ٹھہرنے تھے وگرنہ

سجدے کیے رستوں میں تو قدموں دھرے دل

 

اب کوئی صدا ہے ، نہ گلہ ہے ، نہ تقاضہ

بیٹھا ہے زمانے سے ترے در سے پرے دل

 

ممکن ہے خد و خال ابھر آئیں ہمارے

اس خاک کے خاکے میں کوئی رنگ بھرے دل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ