اردوئے معلیٰ

اٹھا ہوں گر کے ، مرا حوصلہ کمال کا تھا

پہ منتظریہ زمانہ مرے زوال کا تھا

 

قریب ِ مرگ کہیں راز قربتوں کا کھلا

فریبِ چشم تھا، وہ واہمہ خیال کا تھا

 

تمام لوگ جو بولے تو میں بھی چیخ اٹھا

جواب جانے یہ کس شخص کے سوال کا تھا

 

گھٹا میں ،پھول میں ، پیڑوں میں ،چاند تاروں میں

جہان بھر میں ہی جلوہ ترے جمال کا تھا

 

یہ میرے دوست مجھے جانتے نہیں قیصرؔ

مگروہ ایک عدو کس قدر کمال کا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات