اپنی بخشش کے لیے ہم نے بہانہ چن لیا

اپنی بخشش کے لیے ہم نے بہانہ چن لیا

اِن لبوں نے ان کی نعتوں کا ترانہ چن لیا

 

نعمت کونین دینے کے لیے آقا مرے

حق تعالیٰ نے تمہارا ہی زمانہ چن لیا

 

علم و عرفان و حقیقت کے لیے پیارے نبی

رب عالم نے تمہارا ہی گھرانہ چن لیا

 

کچھ غرض ہم کو نہیں ہے اب بہار آئے نہ آئے

ہم نے تو طیبہ کا ہی موسم سہانہ چن لیا

 

شوق جب حد سے بڑھا بےچین ماتھا ہوگیا

میرے سجدوں نے تمہارا آستانہ چن لیا

 

جب زمانے نے ستایا بڑھ گئی کلفت عزیز

اس دیار پاک میں ہم نے ٹھکانہ چن لیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ