اپنی پہچان ہے سیّد خوش لقب سے

اپنی پہچان ہے سیّد خوش لقب سے

ان کا لطف و کرم ہے زمانے پہ جب سے

 

ہر صحیفے نے بعثت کی ان کی خبر دی

منتظر نسلِ انساں نہ تھی جانے کب سے

 

آپ آئے تو انسانیت جاگ اُٹّھی

تھی جدا گفتگو، تھا جدا لہجہ سب سے

 

آپ اُمّی تھے دنیا کی نظروں میں لیکن

سب کی دانائیاں ہیں سب ان کے سبب سے

 

نام جب ان کا آیا تو دل جاگ اُٹھّا

ان سے رشتہ نہ جانے ہمارا ہے کب سے

 

میرے حرف و نوا میں ہر اک لفظ خوشدلؔ

جب کہوں نعت نکلے کمالِ ادب سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ