اردوئے معلیٰ

Search

اپنے پندار کا در توڑ دیا میں نے بھی

بے لباس اپنا بدن دیکھ لیا میں نے بھی

 

بے حسی کا کوئی مشروب تھا سب ہاتھوں میں

زہر سمجھو کہ دوا ، پی ہی لیا میں نے بھی

 

آدمی تھا میں فرشتہ تو نہیں تھا آخر

جس طرح جیتے ہیں دنیا میں جیا میں نے بھی

 

کرتے جاتے تھے سبھی کشتِ تمنا سیراب

اپنی خواہش کو لہو دے ہی دیا میں نے بھی

 

بیٹھ کر سوزن تدبیر سے اوروں کی طرح

اپنا پیراہنِ صد چاک سیا میں نے بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ