اک بات کہہ رہے ہیں شاعر سبھی غزل کے

اک بات کہہ رہے ہیں شاعر سبھی غزل کے

اک شعر ہو رہا ہے مصرعے بدل بدل کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فارس اک روز اسی عطر سے مہکے گا وہ شخص
ترے بغیر تو خود عید بھی خدا کی قسم
وہی ماتھا ، وہی آنکھیں ، وہی ہونٹ
کم نگاہی کی معذرت جاناں
ہاتھوں میں نازکی سے سنبھلتی نہیں جو تیغ
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
جیسے قیدی کو حوالات میں رکھا جائے
مجھے اس مقام پہ لائی ہے تری بے نیازی کی خو کہ اب
تیری جدائی میں مرنے والے فنا کے تیروں سے بے خطر ہیں
چھپ کر نگاہ شوق سے دل میں پناہ لی

اشتہارات