اردوئے معلیٰ

Search

اک ترے در سے بھرا ہر اک پیالہ نور کا

بھیک تیرے نام کی ہے استعارہ نور کا

 

ہو گئی کافور ظلمت آمدِ سرکار سے

کیا مبارک آنا ہے عالم میں آنا نور کا

 

چاند جھک جائے کبھی سورج پلٹ آئے شہا

آپ کے تابع ہے گویا ہر کھلونا نور کا

 

رفعتِ روح الامیں کی حد جہاں پر ختم تھی

اس مقامِ سد رہ سے ارفع تھا جانا نور کا

 

انبیائے سابقیں محدود تھے موقوت تھے

بے کنار و بیکراں ہے پر زمانہ نور کا

 

کشتِ ایماں آپ کے زاہدؔ کی اب ہے سوکھتی

اب برس ہی جائے بادل اس پہ آقا نور کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ