اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ھے

اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ھے

مگر ترے در پہ میرے پہلے قدم کا چرچا بھی کم نہیں ھے

 

ھمارا غم مُلک بھر میں پَھیلا ھے، کونسی آنکھ نم نہیں ھے

ھمارے بندھن کا ٹوٹ جانا سقُوطِ ڈھاکہ سے کم نہیں ھے

 

تُو عشق بھی ھے عقیدہ بھی ھے، مَیں تیری خاطر لڑُوں گا سب سے

جو تُجھ کو اچھا نہیں سمجھتا، مِرے لیے مُحترم نہیں ھے

 

مزے سے کُھل کر گلے لگاؤ کہ کوئی خود کُش بلا نہیں ھم

ھمارے سینے میں صرف دِل ھے، ھمارے سینے میں بم نہیں ھے

 

تُو خود مُجھے اپنی زندگی سے نکال پھینکے تو میری قسمت

وگرنہ پیارے ! کسی بھی مائی کے لال میں اتنا دم نہیں ھے

 

مُجھے سخن بعد میں سکھالینا، پہلے جُملہ تو ٹھیک کرلو

درست ترکیب ھے براہِ کرم، برائے کرم نہیں ھے

 

تُو خود کو شاہِ سخن سمجھ کر اِنہیں کنیزیں نہ جان، پیارے

یہ سادہ دل لڑکیوں کی اک جامِعَہ ھے، تیرا حرَم نہیں ھے

 

حُسَین تو خُوب جانتے ھیں کہ اُن کے عُشّاق کے گھروں میں

کچھ ایسے گھر بھی ھیں جن کے ماتھے پہ پنجتن کا علَم نہیں ھے

 

میاں مصوّر ! ابھی یہ شہکار نامکمل ھے، پھر سے دیکھو

کہ خوشبوئیں پھول سے الگ ھیں، درخت شاخوں میں ضم نہیں ھے

 

اگر مَیں اھلِ ھوَس میں ھوتا تو چند بوسوں پہ رُک نہ جاتا ؟

مَیں عشق والا ھُوں اور میری لُغت میں ھی لفظ “تھم” نہیں ھے

 

کسی کی بس اک جھلک کی خاطر تُو جان دینے چلا ھے فارس

عجیب عاشق ھے، کچھ حیا کر، یہ بھاؤ تو کافی کم نہیں ھے ؟؟؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
کسی بھی کم نظر کا احترام مت کیا کر
وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے؟
آپ کی آنکھیں اگر شعر سُنانے لگ جائیں
خود اپنے ہاتھ سے اپنا فسانہ لکھا ہے
کھیل آسان تو نہیں، مرے دوست
وہ مہربان جھیل فقط بھاپ رہ گئی
نظر میں تاب کہاں تیرے نُور کی خاطر
آگ سے آگ بجھانے کی تمنا کر کے

اشتہارات