اردوئے معلیٰ

Search

اگر دل میں شہنشاہِ مدینہ کی محبت ہے

یہی ایمان کا مقصود ہے اور راہِ جنت ہے

 

دِلوں کو اپنے اُن کی یاد سے معمور تم رکھنا

سکونِ زندگانی ذِکرِ آقا کی بدولت ہے

 

ہجومِ ابتلاء و غم اگرچہ ہے تو کیا پروا

مرے احوال سے شاہِ زمن کو واقفیت ہے

 

مُزیّن اُن کی سیرت سے کرو تم زندگی اِس میں

نجات و کامرانی ہے بشر کی سالمیت ہے

 

کرم سے اُن کے جو لمحات طیبہ میں گُزارے ہیں

اُنھیں لمحات کا ہر پل مرے دل میں ودیعت ہے

 

دیا آقا نےجو حج الوداع میں آخری خطبہ

نہایت دِلنشیں باتیں ہیں ان میں جامعیَّت ہے

 

نبی کے چار یاروں کی ہر اِک خوبی نرالی ہے

صداقت ہے عدالت ہے سخاوت ہے شُجاعت ہے

 

تُجھے کیا خوف محشر کا تری بگڑی بنانے کو

شفیعِ عاصیاں کی جب کہ اے مرزا شفاعت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ