اگر ہے رسم تو ہم بھی گلہ نہیں کرتے

اگر ہے رسم تو ہم بھی گلہ نہیں کرتے

حسین لوگ کسی سے وفا نہیں کرتے

 

بلند اپنے جنوں کا وقار رکھتے ہیں

جو چاک کر لیا دامن سِیا نہیں کرتے

 

او جانے والے انہیں بھی سمیٹ کر لے جا

بکھر کے پھول دوبارا کھلا نہیں کرتے

 

رکھے ہیں کس لیے صیاد اس قدر پہرے

یہ بِن پروں کے پرندے اُڑا نہیں کرتے

 

ہم اس کے تیروں کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں

جو زخم اس نے دئیے ہیں گِنا نہیں کرتے

 

خدا کرے وہ سمجھ جائیں دل کی باتوں کو

لبوں سے ہم جو بیاں مدعا نہیں کرتے

 

مرے طبیب ہوئے مجھ سے کس قدر مایوس

دعا تو کرتے ہیں لیکن دوا نہیں کرتے

 

یہ مجھ سے کہتے ہیں محفل میں جل کے پروانے

جو عشق کرتے ہیں ناصرؔ ، جیا نہیں کرتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ