اردوئے معلیٰ

Search

اہلِ طائف نے اگرچہ انہیں مارے پتھر

مانگی آقا نے دعا چھاتی پہ رکھے پتھر

 

مکہ والوں نے کہا ان کو امین و صادق

ان کے اخلاق کی تاثیر پگھلے پتھر

 

ان کی گویائی کا اک ادنی سا اعجاز ہے یہ

اذن مولا نے دیا ہاتھ میں بولے پتھر

 

حجرِ اسود نے لیے دستِ کرم کے بوسے

اس لیے چومتے ہیں چومنے والے پتھر

 

کتنا مشکل ہے مدینے سے پلٹ کر آنا

واپسی کے لیے بن جاتے ہیں رستے پتھر

 

ان کی سیرت کی جو کردار سے خوشبو آتی ہے

آج ہم پر نہ ہر اک سمت سے پڑتے ہیں پتھر

 

عصرِ عاشور جھکے سجدے میں جب ابنِ علی

تیر آئے کہیں سے اور کہیں سے پتھر

 

لوگو یہ رحمتِ عالم کی دعا ہے ورنہ

ہم پہ دن رات سماوات سے گرتے پتھر

 

بول اٹھتے ہیں محمد کی گواہی کے لیے

ان کے دربار میں کب رہتے ہیں گونگے پتھر

 

اپنی امت سے تھی اس درجہ محبت ان کو

اپنی امت کے لیے شاہ سے ڈھوئے پتھر

 

یا نبی اپنے مدینے میں بلا لیں مجھ کو

توڑ ڈالیں نہ کہیں دل کے یہ شیشے پتھر

 

آج تک بھی وہ مری سانس میں اٹکے ہوئے ہیں

تھے مدینے سے جدائی کے وہ لمحے پتھر

 

عشقِ احمد کا اجالا جو نہ ہوتا مظہرؔ

عین ممکن تھا کہ دل ہوتے ہمارے پتھر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ