اہلی مگو کہ عقل و دل و دیں ز دست رفت

اہلی مگو کہ عقل و دل و دیں ز دست رفت

فارغ نشیں کہ بر دہِ ویراں خراج نیست

 

اہلی، یہ مت کہہ کہ (عشق کی وجہ سے) عقل و دل

و دین سب کچھ چلا گیا (اور عشق نے مجھے ویران

کر دیا) بلکہ مطمئن ہو جا کیونکہ ویران زمین

پر کسی بھی قسم کا کوئی خراج نہیں ہوتا

 

یہ شعر بالخصوص پہلا مصرع تغیرات کے ساتھ بھی ملتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ