اردوئے معلیٰ

Search

ایسے ہے رواں میرا قلم نعتِ نبی میں

خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں

 

انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے

سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں

 

اے شاعرو ! جو اس کو سنے کیف ہو طاری

اتنا تو اثر پیدا کرو نعتِ نبی میں

 

نکہت ہے پسینے میں محمد کے جو یارو

لاریب نہیں ایسی کسی گل میں کلی میں

 

گر خوبیِ قسمت سے فداؔ طیبہ کو جائیں

کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ