ایمان کا نشان ہیں سلمان فارسی

ایمان کا نشان ہیں سلمان فارسی

واللہ میری جان ہیں سلمان فارسی

 

صدیق کا شعور و بیاں اور بہ لفظہٖ!

فاروق کی زبان ہیں سلمان فارسی

 

رگ رگ میں ہیں خدا و محمد بسے ہوئے

روحانیت کی جان ہیں سلمان فارسی

 

یاد آتی ہے حضور کی انساں نوازیاں

کیسا حسیں جہان ہیں سلمان فارسی

 

اک رات ہی میں جرم ’’مدائن‘​‘​ ہوئے فنا

سرتاج دیں کی شان ہیں سلمان فارسی

 

صرف اہلبیت مصطفوی میں نہیں شریک

اصحاب کی بھی جان ہیں سلمان فارسی

 

تا زندگی سناتا رہوں ہر نفس صبیحؔ

وہ حسنِ داستان ہیں سلمان فارسی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ