ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں

ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں

عکس لرزاں ہے تمہارا خامشی کی جھیل میں

 

میں تمہارے حسن کے عنوان میں ڈوبا ہوا

اور تم ڈوبی ہوئی عنوان کی تفصیل میں

 

ہم بکھرتے جا رہے ہیں آرزو کی ریت پر

کائناتِ عشق ہے اک عالمِ تکمیل میں

 

سانس کی مالا بکھرتی جا رہی ہو جس طرح

وقت سمٹا آ رہا ہے جادوئی زنبیل میں

 

جسم جیسے ٹوٹتا ہے رنگِ نو کی چاہ میں

اور تم مصروف ہو اس رنگ کی تشکیل میں

 

آنکھ کھلتی ہے مگر اک عالمِ تنویم میں

روح کے پیکر مرتب ہیں مگر تحلیل میں

 

شاعری کی اپسراء اوجِ فلک پہ جلوہ گر

حرف دوزانو جھکے ہیں فکر کی تعمیل میں

 

واقعہ توجیح ہے خود آپ اپنے آپ کی

حرف ضائع ہو رہے ہیں بے وجہ تاویل میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے
دُھوپ میں جیسے پھول ستارہ لگتا ہے
خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟
عمر بس اعداد کی گنتی سے بڑھ کر کچھ نہیں
جو دل دھڑک رہے تھے وہ دف بھی نہ ہو سکے